تحریر:سید حسین مہدی
حوزہ نیوز ایجنسی|
محرم الحرام کے ایام جوں جوں آگے بڑھتے ہیں، کربلا کے زخم اور گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ عاشورا کی شام گزر چکی ہے، نیزوں کی انیاں خونِ شہداء سے تر ہو چکی ہیں، فرات کی موجیں خاموشی سے تاریخ کا ماتم کر رہی ہیں اور دشتِ کربلا کی ریت اپنے دامن میں وفا، ایثار اور قربانی کے بے شمار نقش محفوظ کیے بیٹھی ہے۔ ایسے میں نگاہِ تاریخ ایک ایسے قافلے کا تعاقب کرتی ہے جس کے پاس نہ مال ہے، نہ لشکر، نہ ظاہری اقتدار؛ لیکن جس کے پاس حق کی وہ دولت ہے جسے کوئی ظالم چھین نہیں سکتا۔
یہ قافلۂ اسیرانِ اہلِ بیت علیہم السلام ہے
بعض تاریخی روایات کے مطابق ۱۹/محرم الحرام انہی ایام میں سے ایک دن ہے جب اہلِ بیتِ رسولؐ کے اس لٹے ہوئے قافلے کو کوفہ سے شام کی طرف روانہ کیا گیا۔ یہ وہ قافلہ تھا جس کی آنکھوں نے کربلا میں انسانیت کا سب سے دردناک مگر سب سے عظیم منظر دیکھا تھا۔ ان آنکھوں نے حسینؑ کو سجدۂ آخر میں دیکھا تھا، ان آنکھوں نے عباسؑ کی وفا کو فرات کے کنارے بکھرتے دیکھا تھا، ان آنکھوں نے علی اکبرؑ کا جوان لاشہ خاکِ کربلا پر تڑپتا دیکھا تھا، اور ان آنکھوں نے چھ ماہ کے علی اصغرؑ کے گلے پر ظلم کا تیر بھی دیکھا تھا۔
دشتِ کربلا میں ہر طرف خاموشی تھی، مگر وہ خاموشی بھی فریاد بن کر آسمانوں سے ٹکرا رہی تھی۔ شہداء کے جسم خاک پر پڑے تھے اور اہلِ بیتؑ کے خیمے راکھ کا ڈھیر بن چکے تھے۔ سکینہؑ اپنے بابا کو پکار رہی تھیں، ربابؑ اصغرؑ کے جھولے کو تلاش کر رہی تھیں، اور زینبؑ اپنے بھائی کی امانتوں کو سنبھال رہی تھیں۔
مگر ابھی مصیبتوں کا سفر ختم نہیں ہوا تھا۔
شہادت کے بعد اسیری کا مرحلہ باقی تھا۔
اہلِ بیتؑ کو کوفہ لایا گیا۔ وہ کوفہ جس نے خطوط لکھ کر حسینؑ کو بلایا تھا، مگر وقتِ آزمائش انہیں تنہا چھوڑ دیا۔ جب اسیرانِ اہلِ بیتؑ شہر میں داخل ہوئے تو لوگ تماشائی بن کر کھڑے تھے۔ کسی کو حقیقت معلوم نہ تھی، کسی کو پتہ نہ تھا کہ یہ رسالت مآبؐ کے گھرانے کی بیٹیاں اور نواسیاں ہیں۔
تب تاریخ نے دیکھا کہ ایک اسیر خاتون منبرِ شجاعت پر جلوہ گر ہوتی ہیں۔
یہ علیؑ کی بیٹی زینبؑ تھیں
آپؑ نے اہلِ کوفہ کو مخاطب کرکے ایسا خطبہ ارشاد فرمایا کہ روتے ہوئے دل اور بھی لرز اٹھے۔ آپؑ نے فرمایا:"اے اہلِ کوفہ! تمہاری مثال اس عورت کی مانند ہے جو بڑی محنت سے سوت کاتتی ہے اور پھر خود ہی اسے توڑ ڈالتی ہے۔"(الاحتجاج، ج۲؛ بحار الانوار، ج۴۵)
یہ الفاظ کوفہ کی روح پر کوڑے بن کر برسے۔ لوگوں کو احساس ہوا کہ انہوں نے کس عظیم جرم کا ارتکاب کیا ہے۔
پھر امام زین العابدین علیہ السلام نے لب کشائی فرمائی۔ بیماری اور اسیری کے باوجود لہجہ ایسا تھا جس میں علیؑ کی جلالت جھلک رہی تھی۔ آپؑ نے فرمایا:"میں مکہ و منیٰ کا فرزند ہوں، میں زمزم و صفا کا فرزند ہوں، میں محمد مصطفیٰؐ کا نواسہ ہوں۔"(الاحتجاج، ج۲؛ بحار الانوار، ج۴۵)
یہ اعلان دراصل یزیدی پروپیگنڈے کے خلاف اعلانِ جنگ تھا
کوفہ سے شام تک کا سفر مصائب کا سفر تھا۔ گرمی کی شدت، طویل مسافت، بھوک، پیاس، بے پردگی اور مسلسل اذیتیں اس قافلے کا مقدر بنا دی گئی تھیں۔ شہداء کے سروں کو نیزوں پر بلند کیا گیا اور ان کے پیچھے اہلِ بیتؑ کو چلایا گیا۔ لیکن ظالم یہ نہ جان سکے کہ جنہیں وہ رسوا کرنا چاہتے ہیں، تاریخ انہیں عزت و عظمت کا تاج پہنانے والی ہے۔
شام کے راستے میں ہر منزل پر ایک نیا امتحان تھا، مگر ہر امتحان کے ساتھ صبر کا ایک نیا باب بھی رقم ہو رہا تھا۔
حضرت زینبؑ کی استقامت کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کربلا کے بعد علیؑ کی شجاعت، فاطمہؑ کی عظمت اور حسینؑ کا صبر ایک وجود میں جمع ہو گیا ہو۔ بھائی کا سر نیزے پر دیکھ کر بھی زبان پر شکوہ نہیں، بچوں کی پیاس دیکھ کر بھی حوصلے میں کمی نہیں، اور اسیری کی ذلت مسلط کیے جانے کے باوجود عزتِ نفس میں کوئی فرق نہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں کربلا کی تحریک اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہوتی ہے:
پہلا مرحلہ حسینؑ کے خون سے لکھا گیا تھا اور دوسرا زینبؑ کے خطبات سے
اگر عاشورا نہ ہوتا تو شاید اسلام کا چہرہ مسخ کر دیا جاتا، اور اگر زینبؑ نہ ہوتیں تو شاید عاشورا کی حقیقت دنیا تک نہ پہنچ پاتی۔
شام کے دربار میں جب یزید نے اپنی فتح کا جشن منانا چاہا تو زینبؑ نے اس جشن کو ماتم میں بدل دیا۔ اسیر ہونے کے باوجود آپؑ کا لہجہ فاتح کا تھا اور تخت پر بیٹھے یزید کا انداز مجرم کا۔
آپؑ نے فرمایا:"فَوَاللّٰهِ لَا تَمْحُو ذِكْرَنَا وَلَا تُمِيتُ وَحْيَنَا"
"خدا کی قسم! تو ہمارے ذکر کو مٹا نہیں سکتا اور نہ ہی ہماری وحی کی روشنی کو بجھا سکتا ہے۔"(اللہوف؛ الاحتجاج)
تاریخ نے اس جملے کی صداقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ یزید کا محل مٹی میں مل گیا، اس کا اقتدار قصۂ پارینہ بن گیا، لیکن حسینؑ کا نام آج بھی کروڑوں دلوں کی دھڑکن ہے۔ دنیا کے ہر خطے میں ان کی یاد زندہ ہے، ان کے غم میں آنسو بہائے جاتے ہیں، ان کی مظلومیت پر مجالس برپا ہوتی ہیں اور ان کے پیغام کو نسل در نسل منتقل کیا جاتا ہے۔
قافلۂ اسیرانِ کربلا کا سفر دراصل انسانیت کا سرمایہ ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ طاقت ہمیشہ تلوار میں نہیں ہوتی، کبھی طاقت صبر میں بھی ہوتی ہے۔ فتح ہمیشہ لشکر کی کثرت سے نہیں ملتی، کبھی مظلوم کے سچے مؤقف سے بھی حاصل ہوتی ہے۔ ظلم وقتی طور پر غالب آ سکتا ہے، لیکن اس کی عمر محدود ہوتی ہے، جبکہ حق ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
آج انیس محرم کا دن ڈھل گیا جب نگاہیں اس قافلے کی جانب اٹھتی ہیں تو دل بے اختیار پکار اٹھتا ہے:
سلام ہو ان زنجیروں پر جنہوں نے آزادی کا درس دیا۔
سلام ہو ان آنسوؤں پر جنہوں نے امت کو جگا دیا۔
سلام ہو زینبؑ کے صبر پر جس نے کربلا کو ابدیت عطا کر دی۔
سلام ہو سجادؑ کی استقامت پر جس نے امامت کے چراغ کو روشن رکھا
اور سلام ہو حسینؑ پر کہ جن کی شہادت نے حق و باطل کے درمیان ہمیشہ کے لیے حدِ فاصل قائم کر دی۔
آج بھی کربلا کی ریت سے ایک صدا آتی ہے کہ اگر حق کے لیے قربانی دینی پڑے تو حسینؑ کو یاد کرنا، اور اگر مصیبتوں کے طوفان میں صبر کی ضرورت ہو تو زینبؑ کو یاد کرنا؛ کیونکہ کربلا صرف ایک واقعہ نہیں، قیامت تک کے لیے ایک زندہ درسگاہ ہے۔









آپ کا تبصرہ